کاروار:12؍دسمبر (ایس اؤ نیوز) گرام پنچایت انتخابات میں پنچایت کی نشستوں کی بولی لگا نا یا نیلامی کر نا انتخابی ضوابط کے خلاف ہے، ایسا کوئی بھی معاملہ سامنے آنے کی صورت میں منتخب ہونے والی نشستوں کو ہی رد کیا جائے گا۔ اس بات کا انتباہ الیکشن کمیشن نے دیا ہے۔
ریاستی الیکشن کمیشنر بسوراجو نے ریاست کے سبھی ڈپٹی کمشنروں سے وڈیو کانفرنس کرتےہوئے وضاحت کی ہے کہ کسی بھی نشست کی نیلامی کے معاملات کی تصدیق ہوتی ہے تو اس نشست کا انتخاب ہی ردکیاجائےگا، ایسا انتخاب کسی بھی طرح سے تصدیق نہیں کی جائے گی۔ ہر روز اس طرح نیلامی کئے جانے کے معاملات میں اضافہ ہونے کی خبروں پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے الیکشن کمیشنر نے وڈیو کانفرنس کرتےہوئے ڈی سیز کو ہدایات جاری کی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس طرح نیلامی اور لالچ کے ذریعے انتخابی ضوابط کی خلاف ورزی کرتےہوئے پنچایت کی نشستوں کومنتخب کئے جانےسے جمہوریت کو خطرہ لاحق ہے ، اس سلسلےمیں بیداری پیدا کرنے کے لئے الیکشن کمیشن نے ضلع انتطامیہ کو ہدایات دی ہیں۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ کوئی بھی اُمیدوار اصول وضوابط کے مطابق یعنی بلا مقابلہ یا متفقہ طورپر منتخب ہوتےہیں تو ان کی تصدیق کی جائے گی اور ایسی نشستوں کو قانون کی حمایت بھی حاصل رہے گی، اس سلسلے میں اگر نیلامی کا پتہ چلتا ہے تو پھر سخت کاروائی کرنے سبھی ڈپٹی کمشنروں کو واضح ہدایات دی گئی ہیں، بتایا گیا ہے کہ ایسے معاملے سامنے آنے کی صورت میں جمہوری نمائندہ قانون اور گرام سوراج قانون کے تحت کارروائی کرتےہوئے کیس درج کرنے کمیشن نے ہدایت دی ہے۔
گرام پنچایت کے لئے ہورہے انتخابات کے دوران چند مقامات پر نیلامی کے واقعات کمیشن کے لئے بہت بڑا چیلنج بن گئے ہیں۔ گرام پنچایت انتخابات کے دوران غیر قانونی سرگرمیوں پر روک لگانے کے لئے تعلقہ اور علاقائی سطح پر ایم سی سی ٹیموں کی تشکیل کرتےہوئے نگرانی کی جارہی ہے۔ اس سلسلے میں کڑی نگاہ رکھنے کے لئے کہا گیا ہے۔
کمیشن کیا کہتاہے:نیلامی یا بولی لگانا1951جمہوری نمائندہ قانون کی واضح خلاف ورزی ہے۔ یہ عوام سے ، عوام کےذریعہ ،عوام کے لئے والے اصول کے خلاف ہے۔ گرام پنچایت انتخابات میں کسی بھی نشست کی نیلامی یا بولی لگانا صحیح نہیں ہونے کی الیکشن کمیشن نے جانکاری دی ہے۔